ابنا: پاکستان امریکی دباو کے باوجود ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے کو بہر صورت مکمل کرے گا۔ اس منصوبہ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے آصف علی زرداری دوبارہ پیر کے دن ایران جائیں گے۔صدر زرداری کا یہ دوسرا دورہِ ایران ہوگا کیونکہ اس سے قبل وہ ستائیس فروری کو ایران گئے تھے۔ اس دورے میں ممکنہ امریکی پابندیوں کے امکانات کے باوجود ایک مشترکہ کنسورشیم کے تحت گیارہ مارچ سے پاکستانی حدود میں پاک ایران گیس پائپ لائن کا افتتاح کیا جائے گا۔ یہ تقریب پاکستان اور ایران کی سرحد پر ہوگی۔ پاکستان اس وقت بجلی اور گیس ، دونوں کے سنگین بحران کا شکار ہے۔ لیکن امریکہ کا اصرار ہے کہ اسلام آباد کے پاس ممکنہ پابندیوں سے بچنے کیلئے دوسرے متبادل طریقے موجود ہیں۔ لیکن پاکستان ملک میں توانائی میں کمی ہونے کے ناطے یہ منصوبہ کو قومی مفاد کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔پیر کے روز ہونے والی تقریب میں 780 کلومیٹر طویل پائپ لائن پر پاکستانی حصے کا کام شروع ہوگا جس پر ڈیڑھ ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ جبکہ ایران نے گیس پائپ لائن پر اپنی طرف کا کام مکمل کرلیا ہےایران نے اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے کہ پاکستانی حدود میں پائپ لائن کے ایک تہائی اخراجات وہ ادا کرے گا اور پاکستانی حدود میں ایک ایرانی کمپنی اس پر کام کرے گی۔
6 مارچ 2013 - 20:30
News ID: 397697
پاکستان امریکی دباؤ کے باوجود اربوں ڈالر کے پاکستان اور ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرے گا۔ یہ بات پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہی۔